کیرانہ،24؍مئی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) کیرانہ لوک سبھا ضمنی انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمی تیز ہے۔ اقتدار کی اس لڑائی میں روز نئی دوستی بنتی نظر آ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں عمران مسعود کی طرف سے اپنی سیاسی مخالف تبسم حسن کو کیرانہ میں اپنی حمایت دینے کی خبر ابھی چرچا میں چل ہی رہی تھی کہ جمعرات کو تبسم کو لوک دل امیدوار کنور حسن کی حمایت مل گئی۔ کنور حسن تبسم حسن کے دیور ہیں اور انتخابات میں ان کے کھڑے ہونے سے اتحاد کو ووٹ کٹنے کا ڈر ستا رہا تھا۔ کنور کے اس اقدام سے بی جے پی کی لئے مشکلیں بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔دراصل کنور حسن نے لوک دل پارٹی سے کیرانہ لوک سبھا سیٹ سے دعویداری پیش کی تھی، جس سے اتحاد امیدوار کے اوپر ہار کا بحران منڈلا رہا تھا، جس سے اپوزیشن جماعتوں کی صفوں میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ آج آر ایل ڈی قومی نائب صدر جینت چودھری کی پہل پر کنور حسن نے اتحاد کی امیدوار یعنی اپنی بھابھی تبسم حسن کو حمایت دے دی۔ کنور حسن کی حمایت کے بعد بی جے پی امیدوار کی مشکلیں بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہیں کیونکہ جن ووٹوں کا بٹوارہ بھابھی اور دیور کو لے کر ہو رہا تھا، اب وہ ایک ہی پلیٹ فارم پر آتا نظر آ رہا ہے۔شاملی کے گاؤں جسالا میں جینت چودھری نے بابھی اور دیور کے درمیان جاری تنازعات کو ختم کرا دیا۔ جینت کے ذریعہ بلائی گئی اس میٹنگ میں ناہید حسن کے چچا انور حسن اور چچا کنور حسن سمیت سینکڑوں کی تعداد میں کارکنان موجود تھے۔ اب کیرانہ میں دونوں ساتھ مل کر انتخابی مہم چلائیں گے اور اتحاد کی امیدوار کے لئے ووٹ مانگیں گے۔